Home    Arcade    Help    Login    Register  
March 11, 2010, 12:49:19 AM
*
Welcome, Guest. Please login or register.
March 11, 2010, 12:49:19 AM

Login with username, password and session length
Search
Google
Recent Topics
[Yesterday at 11:28:18 PM]

[Yesterday at 11:26:51 PM]

[Yesterday at 11:25:15 PM]

[Yesterday at 11:12:51 PM]

[Yesterday at 12:30:56 PM]

[Yesterday at 09:37:57 AM]

[Yesterday at 09:32:30 AM]

[Yesterday at 06:13:03 AM]

[Yesterday at 02:34:47 AM]

[March 09, 2010, 11:38:52 PM]
Pages: [1]   Go Down
  Print  
Author Topic: بال ٹیمپرنگ، روایات اور اقدار مسخ  (Read 316 times)
dimple
Super Member
*****
Offline Offline

Gender: Female
Posts: 1,348


Love your Life


« on: February 03, 2010, 01:49:36 AM »

بی بی سی ا

شاہد آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی بالنگ کے دوران گیند کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی
بال ٹیمپرنگ محض گیند کے ساتھ گڑ بڑ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ عمل کرکٹ کی روایات اور اقدار کو مسخ کرتا رہا ہے۔

ستر کی دہائی میں جب انگلینڈ کے بولر جان لیور کا نام ویسلین استعمال کرکے گیند کی شکل تبدیل کرنے کے ساتھ سامنے آیا تو لوگوں کو بہت حیرت ہوئی تھی کہ یہ بھی ایک ’گر‘ ہے جسے بولر وکٹیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

جان لیور سے شروع ہوئی یہ کہانی شاہد آفریدی تک آتے آتے بڑی ہنگامہ خیز اور متنازعہ ہے کیونکہ کرکٹ کے قوانین گیند کی شکل تبدیل کرکے سورما بننے کی اجازت نہیں دیتے اور یہ عمل جنٹلمین کھیل کے لیے اتنا ہی ناپسندیدہ ہے جتنا میچ فکسنگ یا پھر ڈوپنگ۔

بال ٹیمپرنگ کی ضرورت عام طور پر گیند کو زیادہ سوئنگ کرانے کے لیے پڑتی ہے اور یہ بحث الزامات اور دفاع میں الجھتے ہوئے کبھی ریورس سوئنگ کے آرٹ پر ختم ہوتی ہے تو کبھی چند چہرے ایسے بھی نظر آجاتے ہیں جو گیند کی شکل تبدیل کرتے ہوئے گرفت میں آجاتے ہیں اور مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔
بال ٹیمپرنگ کی ضرورت عام طور پر گیند کو زیادہ سوئنگ کرانے کے لیے پڑتی ہے اور یہ بحث الزامات اور دفاع میں الجھتے ہوئے کبھی ریورس سوئنگ کے آرٹ پر ختم ہوتی ہے تو کبھی چند چہرے ایسے بھی نظر آجاتے ہیں جو گیند کی شکل تبدیل کرتے ہوئے گرفت میں آجاتے ہیں اور مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔

کبھی یہ مجرم راہول ڈراوڈ کی شکل میں اینجری سویٹ( لالی پاپ) گیند پر لگاتے نظر آتے ہیں تو کبھی مائیک ایتھرٹن کی صورت میں جیب میں بھری ریت سے گیند کو رگڑتے پائے جاتے ہیں اور کبھی میچ ریفری مائیک ڈینس سچن تندولکر کو گرفت میں لے لیتے ہیں۔

انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک نے اپنی کتاب میں بھی بال ٹیمپرنگ کا اعتراف کیا۔

دوسروں کی بہ نسبت پاکستانی کرکٹ سب سے زیادہ بال ٹیمپرنگ کی زد میں رہی ہے اور اسے دوسروں سے زیادہ بال ٹیمپرنگ کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ اس کے پاس ہمیشہ یہی جواب رہا ہے کہ چونکہ پاکستانی بولرز ریورس سوئنگ میں یکتہ ہیں اوردوسروں کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں لہذا حسد و رقابت میں پاکستانی بولرز پر الزام تراشی کی جاتی ہے۔


پاکستانی فاسٹ بالر وقار یونس اور وسیم اکرام پر بھی بال ٹیمپرنگ کا مبینہ الزام لگ چکا ہے
سنہ انیس سو بانوے میں انگلینڈ کے دورے میں وسیم اکرم اور وقاریونس کی خطرناک سوئنگ بولنگ پر انگریز میڈیا چیخ پڑا تھا کہ ایسی بولنگ قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں اور اس کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے مطلب یہ کہ پاکستانی بولرز نے مبینہ طور پر بال ٹیمپرنگ کی ہے۔

اسی دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان انگریز کرکٹرز ای این بوتھم اور ایلن لیمب کو عدالت میں لے گئے تھے جنہوں نے پاکستانی بولرز پر بال ٹیمپرنگ کا شک ظاہر کیا تھا۔

عمران خان نے وہ مقدمہ جیتا تھا لیکن پاکستانی کرکٹ پھر بھی شک کی نظر سے دیکھی جاتی رہی تھی۔ سال دو ہزار میں وقاریونس سری لنکا میں بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے میچ ریفری کی زد میں آئے اور انہیں ایک میچ کی معطلی کی سزا بھگتنی پڑی اسی الزام میں اظہر محمود پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا۔


شعیب اختر کو بھی بال ٹیمپرنگ کے الزام میں وارننگ دی گئی تھی
تین سال بعد سری لنکا ہی میں شعیب اختر کو کیمروں نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھایا اور دو میچوں کی پابندی ان کا مقدر ٹھہری۔ شعیب اختر اس سے قبل بھی بال ٹمپرنگ پر کسی بڑی سزا سے بچ چکے تھے اور انہیں متنبہ کرتے ہوئے چھوڑ دیا گیا تھا۔

بال ٹمپرنگ تنازعہ کا نقطۂ عروج سال دو ہزار چھ کی سیریز کا اوول ٹیسٹ تھا جس میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے گیند تبدیل کردی اور قوانین کے مطابق پنالٹی کے پانچ رنز بھی دے دیئے۔ پاکستانی ٹیم جس کے کپتان انضمام الحق تھے احتجاج کے طور پر وقفے کے بعد میدان میں نہیں آئی اور ڈیرل ہیئر نے انگلینڈ کو فاتح قراردے دیا۔

بعدازاں بال ٹیمپرنگ تنازعے کی سماعت آئی سی سی چیف میچ ریفری رنجن مدوگالے نے کی اور پاکستانی ٹیم کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کردیا گیا۔

شاہد آفریدی کے بال ٹمپرنگ کے واقعے نے پاکستانی کرکٹ کی نیک نامی پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور اب دوبارہ یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پاکستانی بولرز وکٹیں حاصل کرنے کے لیے غیرقانونی طریقہ اختیار کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔
اس فیصلے کو پاکستانی کرکٹ کی اخلاقی جیت قرار دیا گیا تھا کیونکہ پاکستانی بولرز ہمیشہ بال ٹیمپرنگ کے معاملے میں شک وشبے کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اس فیصلے کے بعد بظاہر یہ باب بند ہوگیا تھا اور کسی کے لیے بھی آسان نہ تھا کہ وہ کسی ثبوت کے پاکستانی بولرز پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کرے۔

تاہم شاہد آفریدی کے بال ٹیمپرنگ کے واقعے نے پاکستانی کرکٹ کی نیک نامی پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور اب دوبارہ یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پاکستانی بولرز وکٹیں حاصل کرنے کے لیے غیرقانونی طریقہ اختیار کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔

بال ٹیمپرنگ کو قانونی حیثیت دیئے جانے کی بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ اس ضمن میں پہلی آواز جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ایلن ڈونلڈ کی تھی جس کی تائید پاکستانی فاسٹ بولر وقاریونس نے بھی کی لیکن ساتھ ہی ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ اس سے پنڈورا بکس کھل جائے گا اور کتنی حد تک اس کی اجازت ہو اس کا تعین بھی ممکن نہیں۔
ردو ڈاٹ کام، کراچی
Logged

""It breaks your heart to see the one you love is happy
with someone else, but it's more painful to know that
the one you love is unhappy with you"".
Pages: [1]   Go Up
  Print  
 
Jump to:  

     
Powered by MySQL Powered by PHP Contents copyright © Hujra.net, All rights reserved.
Powered by SMF 1.1.11 | SMF © 2006-2009, Simple Machines LLC
TinyPortal v0.9.8 © Bloc
Valid XHTML 1.0! Valid CSS!