Home
Arcade
Help
Login
Register
September 10, 2010, 03:41:56 PM
User
Welcome,
Guest
. Please
login
or
register
.
September 10, 2010, 03:41:56 PM
1 Hour
1 Day
1 Week
1 Month
Forever
Login with username, password and session length
Search
Enter your search terms
Web
hujra.net
Submit search form
Recent Topics
Malakand University, chak...
by
DA HUJRE Chokidaar
[
Yesterday
at 05:10:29 PM]
Flood update in Swat
by
DA HUJRE Chokidaar
[
Yesterday
at 05:09:05 PM]
Eid Mubarak
by
DA HUJRE Chokidaar
[
Yesterday
at 05:07:49 PM]
مبارک باد
by
humdard101
[September 05, 2010, 02:11:04 AM]
KP govt to pay forces Rs2...
by
yousafzai2
[September 04, 2010, 03:59:56 AM]
‘Hanged boys had killed a...
by
yousafzai2
[September 03, 2010, 05:45:31 PM]
Shocking FaceBook Facts
by
DA HUJRE Chokidaar
[September 01, 2010, 04:32:51 PM]
Ghazal By Iqbal Hamdard
by
humdard101
[September 01, 2010, 01:41:23 AM]
My Poetry Book Published
by
humdard101
[August 31, 2010, 03:05:10 AM]
Qaatel ao Sood Khor
by
khpal kor
[August 30, 2010, 06:36:45 PM]
Hujra.net
>
Culture, Art & Literature
>
Pashto & Pashtoons
> Topic:
آستانہ محبت
Pages: [
1
]
Go Down
« previous
next »
Print
Author
Topic: آستانہ محبت (Read 695 times)
musketeer
Member
Offline
Posts: 80
آستانہ محبت
«
on:
April 28, 2009, 11:09:02 AM »
سرحد کی حالت پر آنسو بہاتے پختون گلوکار
انسانی آبادی کے جنگل یعنی نیو یارک کے ایک رہائشی علاقے میں ایک روایتی امریکی مکان کے تہہ خانے کے چھوٹے سے کمرے کو اس کے معتقدین عقیدت سے ’آستانہ محبت‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ صوبہ سرحد کے سنگلاخ پہاڑوں سے نکلنے والی چند سریلی آوازیں آج کل صرف یہاں سنی جاسکتی ہیں۔
ایک بھارتی ہندو کا یہ مکان آج کل صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کے خطرے کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور بعض پختون گلوکاروں اور موسیقاروں کا عارضی مسکن بنا ہوا ہے۔ یہاں تقریباً ہر اختتام ہفتہ وہ محفل منعقد کرتے ہیں اور رات بھر اپنے فن کے ذریعے صوبہ سرحد کی حالت زار پر آنسو بہاتے ہیں۔
چند دن پہلے ایسی ہی ایک محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ تقریباً پندرہ بائے دس فٹ کا یہ کمرہ ایک چھوٹا سا سٹوڈیو ہے جہاں مناسب ساونڈ سسٹم کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد کے مقبول ساز یہاں پائے جاتے ہیں۔ سامنے کی دیوار پر دو دلکش نقش و نگار سے سجے رباب بھی لٹکے ہیں جبکہ فرش پر ایک ہارمونیم اور طبلے رکھے ہیں۔
لیکن اس سازوساماں سے شاید زیادہ اہم اسے گانے بجانے والے لوگ ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے پشتو کے معروف گلوکار ہارون باچہ یہاں اکثر گاتے بجاتے نظر آتے ہیں۔ انہیں گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے خطوط، ایس ایم ایس اور ٹیلیفون کے ذریعے دھمکیوں کے بعد اپنے آبائی علاقے کو خیرباد کہتے ہوئے امریکی منتقل ہونا پڑا۔
وہ اس مشکل میں اکیلے نہیں ہیں۔ کئی دیگر فنکار اور موسیقار بھی موقع ملنے پر پاکستان سے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جو نکل پاتے ہیں وہ یہاں اپنے خاندان سے دوری سہتے رہتے ہیں جبکہ جو گلریز تبسم کی طرح ملک نہیں چھوڑ پاتے انہوں نے گزشتہ دنوں ایک ایک کر کے فن کی دنیا سے اپنا تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایک امریکی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں چھتیس سالہ ہارون باچہ نے بتایا کہ ان سے اکثر موسیقی سے تعلق ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا اور ایسا نہ کرسکنے کی صورت میں انہیں اور ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھی۔
ہارون باچہ کو آٹھ ماہ ہوئے امریکہ آئے لیکن ان کا دل و دماغ ابھی بھی اپنے گھر کی یاد میں پریشان ہے۔ اس سے شاید ان کی آواز میں مزید درد اب دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک تازہ ایک دکھ بھری کہانی سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے سے ان کی فون پر بات ہوئی تو اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک ہزار روپے جمع کر لیے ہیں۔ پوچھا کس بات کے لیے یہ پیسے جمع کیے ہیں تو بیٹے کا جواب تھا امریکہ کا ٹکٹ خریدنے کے لیے۔
ہارون باچہ پاکستان میں کئی پشتو البم تخلیق کرچکے ہیں اور پشتو چینلز کی اکثر عزت بڑھاتے رہے ہیں۔ تاہم امریکہ میں آج کل ان پر غم فراق کی گائیکی کے ساتھ ساتھ قوم پرستی اور وطن کی محبت کا مکمل طور پر غلبہ ہے۔ انہوں نے صوبہ سرحد کے حالات پر ایک تازہ البم تیار بھی کر لی ہے لیکن نہ تو ان کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی سہولت جہاں وہ اسے ریکارڈ کرسکیں۔
ان کی گیتوں کی ڈائری اٹھائی تو پشتو مزاحمتی شاعری کے معروف نام رحمت شاہ سائل کی یہ غزل پڑھی جو بعد میں انہوں نے اپنی آواز میں سنائی بھی۔
دا اونبکی او دا وینی راتولی کہ سنبال ئی کہ
خیال ئی کہ دژوند د ملائی د جبین خال ئی کہ
(یہ آنسو اور خون جمع کرلو، سنبھال لو
اسے ایک خیال میں ڈھال کر زندگی یعنی (محبوبہ) ملالئی کے ماتھے کا ٹیکہ بنا دو)
یعنی پشتون علاقوں میں جو خونریزی کی جو لہر جاری ہے اس سے ہمت مت ہارو بلکہ اسے اپنی مضبوطی بنا کر حالات کا مقابلہ کرو۔
نیو یارک کے موسم بہار کی ایک قدرے سرد رات میں اس جیسی شاعری، ہارون باچہ کی آواز اور شری پالک (مالک ماکان) کے طبلے نے اس وقت کو یادگار بنا دیا۔ تمام رات سر دھنتے رہے، پاکستان کے حالات پر افسوس کرتے رہے۔
(یہ مضمون تحریر کرتے وقت صوبہ سرحد سے دو متعلقہ خبریں بھی گزریں۔ پشاور میں پولیس کے مطابق پشتو کی ایک گلوکارہ شمیم ایمن اداس کو ان کے بھائیوں نے فائرنگ کر کے قتل کردیا جبکہ بونیر میں طالبان نے موسیقی سننے والے چار نوجوانوں کے سر اور مونچھیں منڈوا دیں۔)
From
BBC
Logged
Pages: [
1
]
Go Up
Print
Hujra.net
>
Culture, Art & Literature
>
Pashto & Pashtoons
> Topic:
آستانہ محبت
« previous
next »
Jump to:
Please select a destination:
-----------------------------
Member's Zone
-----------------------------
=> ēCommunity Mobilization & Philanthropists
-----------------------------
Culture, Art & Literature
-----------------------------
=> Pashto & Pashtoons
=> Pukhto Music Songs etc
=> Articles & Books
=> Poetry & Quotes
===> English Poetry & Quotes
===> Urdu Poetry & Quotes
-----------------------------
Religion
-----------------------------
=> Islam
=> Faiths and beleifs
-----------------------------
General Discussions
-----------------------------
=> General
=> News, Current Affairs, & Politics
=> Education & Everyday Science
=> Showbiz, Fun & Entertainment
=> Sports & Games
=> Videos
=> Jokes & Riddles
=> Hujra Clinic
-----------------------------
Technology & Computer World
-----------------------------
=> Whats new?
=> Computer & InfoTech
=> Training & Tutorials
=> Troubleshooting & Help
=> Internet Links
=> Mobile Phones & PDAs
-----------------------------
Hujra Services
-----------------------------
=> Announcements
===> Hujra Team
=> Help Desk & Suggestions
Loading...